اردو 50 محبت والی شاعری
1: تم کو اپنی مثال دیتا ہوں
عشق زندہ بھی چھوڑ دیتا ہے
2: حسن ہی لے ڈوبا تھا فقط یوسف کو
بھلا پیغمبر بھی بازارو ں میں بکا کرتے ہیں
3: مسئلہ یہ نہیں کہ تیرے ہیں
مسئلہ یہ ہے کہ صرف تیرے ہیں
4: تیری چاہت کا اتناسا حصہ ہے میرے وجود میں
تجھے خود سے نکالوتو باقی کچھ نہیں بچتا
5: تم حقیقت عشق ہو یا فریب میری آ نکھ کا
نہ دل سے نکلتے ہو نہ زندگی میں آتے ہو
6: کسی کے مر جانے سے شروع ہوتی ہے محبت
گویا کہ عشق زندہ دلوں کا کام نہیں
7: سنا ہے محبت کر لی ہے تم نے
اب کہاں ملو گے پاگل خانے یا مہ خانے
8: تیرا دیدار ہی آنکھوں کی تلاوت ٹھہرا
یہ میرا عشق مقدس ہے عبادت جیسا
9: کتنی ظالم ہوتی ہے یہ پل دو پل کی محبت
نہ چاہتے ہوئے بھی دل کو کسی کا انتظار رہتا ہے
10: واللہ کیا کشش تھی کہ مت پوچھیئے صاحب
مجھ سے یہ دل لڑ پڑا ، مجھے یہ شخص چاہئیے
11: سمجھدار ہی کرتے ہیں غلطیاں صاحب
کبھی کسی پاگل کو دیکھا ہے محبت کرتے
12: حسن اس کا نہ کُھل سکا محسن
تھک گئے لوگ شاعری کرتے
13: بولے تو سہی جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب ولہجہ دل آویز بہت ہے
14: تیرے قریب رہ کر بھی تجھے تلاش کروں
محبتوں میں میری بدحواسیاں نہ گئیں
15: صدیوں بعد اسے دیکھا ، دل نے پھر محسوس کیا
اور بھی گہری چوٹ لگی ہے ، درد میں شدت اور بھی ہے
16: محبت کیا چیزہے یہ اب جانا ہم نے
ہزار دل توڑنے پڑتے ہیں اک دل جوڑنے کو
17: سمجھ کرمال غنیمت مجھ کو
اس کی یادوں نے بے پناہ لوٹا
18: کبھی جو غورسے دیکھو تو اتنا جان لو گے تم
کہ ہر لمحہ تمہارے بن ہماری جان لیتا ہے
19: اک پل بھی تیری یاد سے غافل نہیں ہوا
میں مذہب وفا کا تہجد گزار ہوں
20: بچھڑ کے وہ روز ملتا ہے مجھے خواب نگر میں
اگر یہ نیند بھی نہ ہوتی تو ہم تو مر گئے ہوتے
21: اس کے پہلو میں سکون کتنا ہے محسن
جب کہ مسجد بھی نہیں ، مندر بھی نہیں ، گرجا بھی نہیں وہ
22: کیا یہی ہے کمال عشق و محبت کرنے کا
عمر جینے کی ہے اور شوق مرنے کا
23: کتنی مسجدو ں کو چھوڑ کر اسکی گلی میں ہم گئے
کم عمری میں محبت نے ہمیں کافر بنا دیا
24: اک مدت بعد ملی قید سے آزادی محسن
پر ملی جب آزادی تو پنجرے سے پیار ہو گیا
25: بہت کچھ تجھ سے بڑھ کر بھی میسر ہے
نہ جانے پھر بھی کیوں تیری ضرورت کم نہیں ہوتی
26: سنا ہے عشق کا شوق نہیں ہے تمہیں
مگر برباد تم کمال کا کرتے ہو
27: زندگی نہ کر سکی اس درد کا علاج
سکون تب تب ملا ، جب جب تجھے یاد کیا
28: ہر عمل کا اک رد عمل ہوتا ہے
نفرت بتارہی ہیں کبھی پیار غضب کا تھا
29: پھر اسکی یاد ، پھر اسکی طلب ، پھر اسکی باتیں
اے دل تجھے لگتا ہے سکوں راس نہیں
30: مصروفیت میں آتی ہے بے حد تمہاری یاد
فرصت میں تیری یاد سے فرصت نہیں ملتی
31: اتنی شدت سے وہ میری رگوں میں اتر گیا
کہ اسے بھولنے کے لئے اب مجھے مرنا ہو گا
32: لوگ جانیں گے تجھے میرا حوالہ دیکر
میرا ہونا تیرے ہونے کی نشانی ہو گا
33: تیر ی محبت سے لیکر تیرے الوداع کہنے تک
میں نے صرف چاہا تجھے ، تجھ سے کچھ نہیں چاہا
34: نہ جلاؤ، نہ دفناؤ، سرعام سڑک پر پھینک دو
یہ عشق سبھی کا مجرم ہے ہر آتا جاتا بدلہ لے
35: دھوکہ دینا تو محبت والوں کی رسم وفا ہے فراز
پھول خوشبو کے لئے ہوتے تو لوگ جنازے پہ نہ ڈالتے
36: میری آنکھوں کو دیکھ کر طبیب بولا
چلا جا عشق کا علاج نہیں ہے
37: یہ عشق کا روگ جاتا نہیں خدا کی قسم
گلے میں ڈال کے سارے تعویز دیکھے ہیں
38: کم بخت مانتا ہی نہیں دل اسے بھلانے کو
میں ہاتھ جوڑتا ہوں تو وہ پاؤں پڑ جاتا ہے
39: وہ کہتا ہے بتا تیرا درد میں کیسے سمجھوں
میں نے کہا عشق کر او ر کرکے ہار جا
40: رسوائی کے ڈر سے رکھ نہ سکے محبت کا بھرم
یہ سچ ہے وہ چاہتا مجھے غضب کا تھا
41:
ہے کوئی وکیل با کمال جو ہارا ہوا عشق جتوا دے مجھ کو
42: محبت مل نہیں پاتی مجھے معلوم ہے لیکن
مگر خاموش رہتا ہوں کر جو بیٹھا ہوں
43: بے رُخی یاراں ، نازو نخرہ ، شرم و حجاب ، پردہِ دل
سر آنکھو ں پر مگر ! محبت میں شامل کوئی تیرا نہ ہو
44: دھمکی دی ہے میرے دل نے مجھے
اس کو یاد کرتے ہو یا میں دھڑکناچھوڑ دوں
45: نہ چاہت کے انداز الگ، نہ دل کے تھے جذبات الگ
تھی ساری بات لکیروں کی ، تیری بات الگ میری بات الگ
46: رات پوری گزار دوں تیری خاطر
اک بارتو کہہ تیرے بن نیند نہیں آتی
47: بات مقدر پر آکر رہ گئی ورنہ
کوئی کسر تو نہ چھوڑی تھی ہم نے تمہیں چاہنے میں
48: جو دل کے آئینے میں ہو وہی ہے پیار کے قابل
ورنہ دیوار کے قابل تو ہر تصویر ہوا کرتی ہے
49: تم کو اپنی مثال دیتا ہوں
عشق زندہ بھی چھوڑ دیتا ہے
50: بچوں سی طبیعت ہے ہم اہل محبت کی
ضد کرنا، مچل جانا، پھر خود سے ہی سنبھل جانا
Comments
Post a Comment