Posts

Showing posts from July, 2024

بارش پر 13 شاعری

 1. یہ موسم کی بارش.. یہ بارش کا پانی... یہ پانی کی بوندیں. . تجھے ہی تو ڈھونڈیں 2. اسے بارش پسند ہے اور مجھے بارش میں وہ  اسے ہنسنا پسند ہے اور مجھے ہنستے ہوئے وہ اسے بولنا پسند ہے اور مجھے بولتے ہوئے وہ اسے سب کچھ پسند ہے اور مجھے بس وہ 3. ہو اجازت تو مانگ لوں تمہیں رب سے۔ سنا ہے بارش میں دعا قبول ہوتی ہے ۔ 4. اپنی ہر بوند میں تیری یاد کی لذت لے کر. بارشیں آگ لگانے کا ہنر لائی ہیں 5. سوگوار لمحوں کہ راگ جیسی ہوتی ہے سردیوں کی بارش توآگ جیسی ہوتی ہے 6. یہ بارش کا موسم یہ ٹھنڈی ہوائیں نہ جانے آسمان پہ کس کی محبت کی عدالت لگی ہے. 7. ترسا دیا ہے ابرگریزاں نے اس قدر برسے جو بوند بھی تو سمندر لگے مجھے ۔ 8. ﺳﻮﭼﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ، ، ﻟﻤﺤﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ؟؟ ﺑﺎﺭﺵ ، ﭼﮭﺘﺮﯼ __ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ 9. سرد ہوا برستا بادل کر دیتا ہے ہمکو پاگل جیسے جیسے بھیگے موسم ویسے ویسے بھیگے کاجل رابیل رانی 10. ارے کوئی جاؤ ان بادلوں کو دلاسہ دو  بڑی بھول هوئی هم انہیں حالِ دل سنا بیٹھے 11. کیا خاک مزہ آئےگا جب یار ہی نہیں پہلو میں  آگ لگے اس موسم کو, کوئی نام نہ لے اب بارش کا 12. ان بارشوں کی بوندوں میں نہ جان...

اردو 14 فنی شاعری

 1. میں نے عشق کے دریا میں جو غوطا لگایا تھا پانی ٹھنڈا تھا میں بہر نکل آیا تھا 2. شادی والے دن دولہا وہ شخص ہوتا ہے  جو اپنے اردگرد خوبصورت لڑکیاں دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا ہوتا ہے  کہ  آج سے پہلے یہ سب کہاں تھیں؟ 3. ویسے لعنت بھی کیا کمال چیز ہے ایڈریس نا بھی لکھو تو مستحق افراد تک پہنچ ہی جاتی ہے 4. دوسری شادی پر حکومت کی پابندی پہلی شادی پر گھر والوں کی پابندی سانوں فیر بارڈر تے بھیج دو 5. لوگ دل میں جگہ بناتے ہیں میں اپنے والے کے دل میں سرنگ بناؤں گی 6. ایک لڑکی اپنے محبوب سے پوچھنے لگی کے جب تم کو میری یاد آتی ہے تو تم کیا کرتے ہو    لڑکا بولا    میں تمہاری پسندیدہ چاکلیٹ کھا لیتا ہوں    لڑکا اور تم کیا کرتی ہو    لڑکی    میں گولڈ لیف کے دو سگریٹ پی لیتی ہوں 7. ﮨﺎﮰ ﺗﯿﺮﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﻮ ﺍﮔﻨﻮﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺻﺪﻗﮯ ﺟﺎٶﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﮈﯾﺠﯿﭩﻞ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﭘﮧ 8. اس کی باتیں تکلیف نہیی دیتی۔۔۔ جتنی تکلیف سلو انٹرنیٹ دیتا ہے ۔۔ 9. اے خدا میرے دوست کو سلامت رکھنا ورنہ میری شادی میں برتن صاف کون کرے گا 10. لڑکی کے چکر میں لڑکے کے ساتھ ج...

ردی دل 10 شاعری

 1. آج اس نے اپنے درد بھی علیحدہ کر لیے ۔ آج میں رویا تو میرے ساتھ رویا نہ تھا۔ 2. یہ ٹهنڈی ہوائیں یہ سرد موسم اور ہلکا ہلکا سا درد دل  فروری تیرے نخرے بهی بالکل میرے یار جیسے ہیں. 3. آج اس نے ایک اور درد دیا تو ہمیں یاد آیا۔ ہم نے بھی تو دعاوں میں اس کے سارے درد مانگے تھے۔ 4. ہو سکتا ہے مر جاوں چند دنوں میں تھوڑا تھوڑا ۔ اک شخص جلا رہا ہے دل روز تھوڑا تھوڑا ۔ 5. ایک تسلسل سے بڑھ رہا ہے تیرے پیار کا درد۔۔۔ ایک کام کرو اس تسلسل کو مسلسل کر دو۔ 6. ہمیں آتی نہیں یہ پیار بھری شاعری جس نے درد سننا ہو آ جائے محفل میں 7. اس سے محبت بھی عجیب قسم کی یے وہ درد بھی دے تو درد نہیں ہوتا 8. درد اٹھتا ہے تو تصور میں آ جاتے ہیں وہ۔ خدا میرے درد کی عمر دراز کرے۔ 9. ہم ہیں کہ تیرا درد چھپا کر دل میں  کام دنیا کے بدستور کیے جاتے ہیں 10. درد ٹھہرا ہے آ کے یوں دل میں ۔ عمر بھر کا قیام ہو جیسے ۔

محبت پر 15 شاعری

 1. نہیں نہیں اب تو کوئی آرزو بھی نہیں باقی  اک خواہشِ عشق نے دل ہی جلا ڈالا  2. مسئلہ یہ نہیں کہ تیرے ہیں  مسئلہ یہ ہے کہ صرف تیرے ہیں  3. زلیخا کے عشق نے یہ راز کھولا ہے  صنم حسیں ہو تو نیت بدل ہی جاتی ہے  4. کہاں ڈھونڈتے ہو تم عشق کو اے بے خبر  یہ خود ہی ڈھونڈ لیتاا ہے جسے برباد کر نا ہو . 5. وہم سارے تیرے اپنے ہیں  ہم کہاں تجھ کو بھلا سکتے ہیں  6. کسی کے مر جانے سے شروع ہوتی ہے محبت  گویا کہ عشق زندہ دلوں کا کام نہیں 7. سنا ہے محبت کر لی ہے تم نے  اب کہاں ملو گے پاگل خانے یا مہ خانے  8. تیرا دیدار ہی آنکھوں کی تلاوت ٹھہرا یہ میرا عشق مقدس ہے عبادت جیسا  9. ظلم یہ ہے کہ مسلسل تیری بیگاہ روی  لطف یہ کہ میں پھر بھی تجھے اپنا سمجھوں  10. کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں  عشق کا کھیل برابر بھی تو ہو سکتا ہے  11. کتنی ظالم ہوتی ہے یہ پل دو پل کی محبت  نہ چاہتے ہوئے بھی دل کو کسی کا انتظار رہتا ہے  12. کیوں نہ سزا ملتی ہمیں محبت میں  آخر ہم نے بھی تو بہت دل دکھائے تھے  ...

اردو 19 مرزا غالب شاعری

 1: آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک  کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک 2: نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا  ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا  3: بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا  آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا  4: ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے  کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور  5: رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج  مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں 6: بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے  ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے 7: کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ  شرم تم کو مگر نہیں آتی  8: ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ  کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا  9: درد منت کش دوا نہ ہوا  میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا  10: کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو  یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا  11: قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں  رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن  12: کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ  پر اتنا جانتے ہیں کل ...