اردو 28 دوستی شاعری

 1: ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 

 ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 



2: جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

 وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں 



3: جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں 

 بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے



4: جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو 

 جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی 



5: جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

 اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو



6: جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہی 

 کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی 



7: تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور

 ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر 



8: تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو 

 یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر



9: تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا

 میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں 



10: تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

 ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات 



11: تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا 

 ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں 



12: تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی

 نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں 



13: سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

 کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں 



14: سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

 ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا 



15: زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ

 جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی



16: زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ 

 کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک



17: زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

 طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی 



18: روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل 

 آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر 



19: رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم 

 عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد 



20: دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب 

 کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو 



21: دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

 پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے 



22: دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

 پھر اس میں عجب کیا کہ تو بیباک نہیں ہے 



23: خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

 خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے 



24: خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

 تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں 



25: خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

 کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری 



26: حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی 

 خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ



27: حکیم و عارف و صوفی تمام مست ظہور 

 کسے خبر کہ تجلی ہے عین مستوری 



28: حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک 

 کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

Comments

Popular posts from this blog

بارش پر 13 شاعری

بے وفائی اردو شاعری

اردو 50 محبت والی شاعری