اردو 19 مرزا غالب شاعری

 1: آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک 


کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک



2: نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا 


ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا 



3: بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 


آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا 



4: ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے 


کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور 



5: رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج 


مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں



6: بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے 


ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے



7: کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ 


شرم تم کو مگر نہیں آتی 



8: ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ 


کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا 



9: درد منت کش دوا نہ ہوا 


میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا 



10: کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو 


یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا 



11: قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں 


رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن 



12: کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ 


پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے 



13: ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن 


دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے 



14: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 


بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے 



15: ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق 


وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے 



16: محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا 


اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے 



17: عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا 


درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا



18: رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل 


جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے 



19: یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا 


اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

Comments

Popular posts from this blog

بارش پر 13 شاعری

بے وفائی اردو شاعری

اردو 50 محبت والی شاعری